کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
بے شک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کر دیا
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
اور اسے دوا بھری چیزوں کی راہ بتائی
( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )